وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 5 جنوری وہ تاریخی دن ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعے کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا۔
کشمیر کے یومِ حقِ خود ارادیت کے موقع پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان نے ایک تاریخی قرارداد منظور کی، جس نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ تنازع قرار دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس قرارداد میں یہ طے پایا تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا، تاہم افسوس کا مقام ہے کہ بھارت کے غیر قانونی قبضے کے باعث یہ وعدہ آج تک پورا نہ ہو سکا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام گزشتہ آٹھ دہائیوں سے بھارتی قابض افواج کے ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہیں، مگر بھارتی جبر و تشدد کے تمام ہتھکنڈے کشمیری عوام کے عزم، حوصلے اور جدوجہد کو کمزور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری بھارت کے جابرانہ اور غیر قانونی اقدامات کے خاتمے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرے، تاکہ کشمیری عوام کو ان کا تسلیم شدہ حق مل سکے۔
واضح رہے کہ آج پاکستان اور خطہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری عوام یومِ حقِ خود ارادیت منا رہے ہیں، تاکہ عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کی جانب مبذول کرائی جا سکے۔