پاکستان پیپلزپارٹی نے صدرِ مملکت کے دستخط کے بغیر اسپیشل اکنامک زونز آرڈیننس جاری کیے جانے کے خلاف قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کر دیا، جس کے باعث ایوان میں سیاسی کشیدگی دیکھنے میں آئی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے ارکان نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے مؤقف اختیار کیا کہ پارلیمان کی بنیادی اور آئینی ذمہ داری قانون سازی ہے، مگر یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت نے ایسا آرڈیننس نافذ کیا جس کی صدرِ مملکت نے باقاعدہ منظوری ہی نہیں دی۔
نوید قمر نے کہا کہ صدر کی توثیق کے بغیر جاری کیا گیا کوئی بھی آرڈیننس آئینی حیثیت نہیں رکھتا، اسی لیے ایسے حالات میں پیپلز پارٹی اس ایوان کی کارروائی کا حصہ نہیں بن سکتی۔
دوسری جانب وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ارکان ان کی بات سن لیں، حکومت کے علم میں یہ معاملہ لایا گیا ہے جو اس وقت سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک صدرِ مملکت کسی آرڈیننس کی توثیق نہیں کرتے، حکومت اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کرتی۔
اسی دوران پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صدر کے دستخط کے بغیر اسپیشل اکنامک زونز آرڈیننس جاری ہونے پر پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔
ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں پیپلز پارٹی آئینی طریقۂ کار سے متعلق اپنے تحفظات پر تفصیلی مشاورت کرے گی اور آئندہ کے لائحۂ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔