چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کی زیر صدارت پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں متفقہ طور پر ایک اہم قرارداد کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے ارکانِ قومی اسمبلی نے شرکت کی اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں بانی پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی اسیران کے حق میں واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار کیا گیا۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ بے بنیاد اور سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات فوری طور پر ختم کیے جائیں، بانی پی ٹی آئی کے اہلِ خانہ سے ملاقاتوں اور روابط کو بحال کیا جائے اور انہیں سیاسی ملاقاتیں اور رابطے جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔
قرارداد میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تمام سیاسی اسیران کے ساتھ انصاف اور قانون کے تحت برابری کا سلوک یقینی بنایا جائے تاکہ عدالتی عمل پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
پارلیمانی پارٹی نے تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے قائدین کے دورۂ لاہور کو سراہتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا، جبکہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے کارکنان پر لاٹھی چارج، رکاوٹیں کھڑی کرنے اور پولیس کے سخت رویے کی شدید مذمت کی گئی۔ اسی طرح وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے دورۂ کراچی پر انہیں اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد دی گئی، تاہم سندھ حکومت کی جانب سے اس دورے کے دوران رکاوٹیں ڈالنے پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے زیر اہتمام بلائے گئے امن جرگے کے اعلامیے کو من و عن تسلیم کیا جائے اور اس پر فوری اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
پارلیمانی پارٹی کی قرارداد میں عمر ایوب، زرتاج گل، صاحبزادہ حامد رضا، لطیف چترالی، احمد چھٹہ، بلال اعجاز احسان ورک، رانا فراز نون، رائے حیدر علی، رائے حسن نواز اور جمشید دستی کی سیاسی جدوجہد کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین بھی پیش کیا گیا۔
قرارداد میں اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ ملک اس وقت ایک نہایت نازک اور پیچیدہ سیاسی مرحلے سے گزر رہا ہے، جس کے پیشِ نظر جمہوری قوتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ ایک نئے میثاقِ جمہوریت پر اتفاق کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کی ایسی تشکیلِ نو کا مطالبہ بھی کیا گیا جس پر تمام سیاسی فریقین کا اتفاق ہو۔
پاکستان تحریک انصاف نے قرارداد کے ذریعے شفاف، آزاد اور منصفانہ نئے انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ جمہوری عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔