وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے پاکستان تحریک انصاف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 8 فروری کو دی جانے والی پہیہ جام ہڑتال کی کال واپس لے، کیونکہ صوبہ کسی بھی قسم کے انتشار، بدامنی یا تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
کورنگی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پہیہ جام ہڑتال کی کال نہ صرف حالات کو کشیدہ کر سکتی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں عام شہریوں اور خود پارٹی کارکنان کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ایسے اقدامات ملک میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت ایک بار پھر 9 مئی جیسے واقعات دہرانا چاہتی ہے، تاہم ایسی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر یہی روش جاری رہی تو پاکستان تحریک انصاف کو عوام خود “پی ٹی آئی پی” بنا دیں گے۔
ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو سندھ حکومت کی جانب سے مکمل پروٹوکول فراہم کیا گیا اور وہ جہاں جہاں جانا چاہتے تھے، انہیں وہاں لے جایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ باغ جناح میں جلسے کی اجازت بھی دی گئی، تاہم اس جلسے کے باعث کراچی میں غیر ضروری تناؤ کی فضا پیدا ہوئی۔
انہوں نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق باتوں کو محض سیاسی شوشے قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کسی صورت تقسیم نہیں ہوگا اور صوبے کی جغرافیائی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ناصر حسین شاہ نے تقریب کے دوران کہا کہ اس نادرا سینٹر سے ہزاروں شہری مستفید ہوں گے، کیونکہ شناختی کارڈ کے حصول کا عمل عوام کے لیے ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کورنگی میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا ہے، جبکہ سندھ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے پنک اسکوٹیز فراہم کر رہی ہے اور ان کی باقاعدہ تربیت کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے۔