جیکب آباد میں تھانہ آر ڈی 52 کے ایس ایچ او سمیت سات پولیس اہلکاروں پر ایک بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کا سنگین الزام سامنے آیا ہے، جس کے بعد معاملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ تھانہ آر ڈی 52 کے ایس ایچ او اور ہیڈ محرر سمیت مجموعی طور پر سات اہلکاروں نے اس کی پوتی کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی، جس پر اہلِ خانہ کی جانب سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی جیکب آباد سے تفصیلات طلب کر لی ہیں، تاکہ واقعے کی نوعیت اور حقائق کا تعین کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق ڈی ایس پی ٹھل کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، جو تمام پہلوؤں سے الزامات کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے گی، جبکہ قصور ثابت ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔