وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود دفاعی معاہدے میں کسی بھی دوسرے ملک کی شمولیت سے متعلق فیصلہ دونوں ممالک باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے کریں گے، اور اس حوالے سے کوئی بھی قدم مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت اٹھایا جائے گا۔
نوزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اس دفاعی تعاون کے دائرہ کار میں ترکیہ یا کوئی اور ملک بھی شامل ہو سکتا ہے، تاہم اس معاملے پر فیصلہ خطے کی مجموعی صورتحال اور باہمی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا کو مجموعی طور پر اپنے دفاع کے لیے ایک جامع اور مربوط دفاعی فریم ورک تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ مشترکہ چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور مثالی تعلقات قائم ہیں، جو باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے عزائم کسی ملک کے خلاف نہیں ہیں اور پاکستان کی حمایت بھی اسی مؤقف پر مبنی ہے کہ ایران ایک محفوظ اور مستحکم ملک کے طور پر آگے بڑھے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام ہمارے بھائی ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات خطے میں امن و استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔
اسرائیل سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جس سے متعدد ممالک کو سیکیورٹی خدشات لاحق ہیں، اور اس حوالے سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔
دوسری جانب یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ سے متعلق بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو دعوت دی ہے، جسے سفارتی سطح پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔