جیکب آباد میں پولیس حراست کے دوران لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے سنگین مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں واقعے میں ملوث چھ پولیس اہلکاروں کے خلاف تفتیش کے لیے کیس وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
جیکب آباد کی عدالت نے گرفتار چھ اہلکاروں کو مزید تحقیقات کے لیے دو روزہ ریمانڈ پر دے دیا ہے، تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے اور حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
ایس ایس پی کے مطابق تحقیقات کے دائرہ کار کو مزید وسعت دیتے ہوئے دو تھانے داروں، مقصود سنجرانی اور نواز بروہی، کو بھی تفتیش میں شامل کر لیا گیا ہے تاکہ ذمہ داری کا تعین مکمل طور پر کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ جیکب آباد کے تھانہ آر ڈی 52 کے ایس ایچ او سمیت مجموعی طور پر سات پولیس اہلکاروں پر لڑکی سے مبینہ زیادتی کا الزام عائد کیا گیا تھا، جس کے بعد وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی ہدایت کی تھی۔