کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جہاں حکام نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے آگ لگنے اور امدادی کارروائیوں کی مکمل ٹائم لائن تیار کر لی ہے تاکہ واقعے کے تسلسل کو واضح کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق سی سی ٹی وی ریکارڈ سے معلوم ہوا ہے کہ آگ پلازہ کی پچھلی جانب رات 10 بج کر 7 منٹ پر لگی، جس کے بعد صورتحال تیزی سے بگڑتی چلی گئی۔ فوٹیج کے مطابق رات 10 بج کر 12 منٹ پر ایمبولینسز موقع پر پہنچنا شروع ہوئیں، جبکہ پلازہ کے ایم اے جناح روڈ کی جانب آگ رات 10 بج کر 18 منٹ پر واضح طور پر نظر آنا شروع ہوئی۔ حکام نے بتایا کہ آگ کو عمارت کے پچھلے حصے سے اگلے حصے تک پہنچنے میں تقریباً 11 منٹ لگے۔
یاد رہے کہ کراچی میں آگ سے تباہ ہونے والے گل پلازہ میں سرچ آپریشن بدستور جاری ہے۔ تازہ کارروائی کے دوران میزنائن فلور سے مزید 30 لاشیں نکالی گئی ہیں، جس کے بعد جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 61 ہو گئی ہے، جبکہ واقعے کی سنگینی مزید واضح ہو گئی ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق دکانداروں کی جانب سے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ تمام 30 لاشیں ایک کراکری کی دکان سے برآمد ہوئیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ متاثرہ افراد نے آخری وقت میں اسی جگہ پناہ لینے کی کوشش کی تھی۔
حکام کے مطابق آگ لگنے کے بعد لوگوں نے اپنی جان بچانے کے لیے خود کو دکان کے اندر بند کر لیا تھا، جبکہ ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی مقام کی سامنے آئی ہے، جس نے سرچ آپریشن کی سمت متعین کرنے میں مدد دی۔