اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران سانحہ گل پلازہ پر بحث نے شدت اختیار کر لی، جہاں ایم کیو ایم پاکستان اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئیں اور ایوان میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
سانحہ گل پلازہ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کا مطالبہ کیا۔ ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ گل پلازہ کا سانحہ صرف ایک عمارت تک محدود نہیں بلکہ اس کی آگ اب کراچی کے ہر شہری کے دل میں لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس بنانا ملک کی تقسیم نہیں بلکہ انتظامی بہتری کی ضرورت ہے، اس معاملے کو سیاست کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔
ایم کیو ایم کے مؤقف کے جواب میں پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے کہا کہ وہ اس معاملے میں سیاست نہیں کر رہیں، تاہم یہ بات سب کے علم میں ہے کہ 2002 اور 2003 میں کس کی حکومت تھی اور کس دور میں دکانوں کی تعداد بڑھانے کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی حادثے کے وقت یہ ضروری نہیں کہ وزیراعلیٰ یا وزرا فوری طور پر موقع پر پہنچیں، بلکہ اصل اہمیت ریسکیو اداروں کی بروقت موجودگی کی ہوتی ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل نے بھی ایوان میں سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کراچی پر دعوے کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داری قبول کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلڈنگ کی تعمیر اور اس میں ہونے والی خامیوں کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے اسے بنایا۔ عبدالقادر پٹیل نے سانحہ بلدیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں دروازے زنجیروں سے بند ہونے کے باعث 360 افراد جان سے گئے، اور آج بھی اس سانحے کا ذکر کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔
بحث کے دوران دونوں جماعتوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ جاری رہا، جبکہ ارکان نے سانحہ گل پلازہ کو کراچی کے لیے ایک بڑا المیہ قرار دیتے ہوئے مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔