صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ملک کی مختلف ہائیکورٹس میں تعینات ایڈیشنل ججز کی توثیق اور بعض ججز کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی منظوری دے دی ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
صدرِ مملکت کی جانب سے یہ منظوری جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارشات کی روشنی میں دی گئی، جبکہ تمام فیصلے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر کیے گئے ہیں، تاکہ عدالتی نظام میں تسلسل اور انتظامی امور کو مؤثر انداز میں جاری رکھا جا سکے۔
صدر آصف علی زرداری نے لاہور ہائی کورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل جج مقرر کرنے کی منظوری دی، جن میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان، جسٹس سردار اکبر علی، جسٹس سید احسن رضا کاظمی، جسٹس ملک جاوید اقبال وینس، جسٹس محمد جواد ظفر، جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک محمد اویس خالد، جسٹس چودھری سلطان محمود، جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس عبہر گل خان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس طارق محمود باجوہ کی مدتِ ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کی منظوری بھی دی گئی ہے۔
اسی طرح سندھ ہائی کورٹ کے 10 ایڈیشنل ججز کو بھی مستقل جج مقرر کرنے کی منظوری دی گئی، جن میں جسٹس میران محمد شاہ، جسٹس تسنیم سلطانہ، جسٹس ریاضت علی سحر، جسٹس محمد حسن، جسٹس عبدالحمید بھگی، جسٹس جان علی جونیجو، جسٹس نثار احمد بھنبھرو، جسٹس علی حیدر، جسٹس محمد عثمان علی ہادی اور جسٹس محمد جعفر رضا شامل ہیں۔
صدرِ مملکت نے سندھ ہائی کورٹ کے دو ایڈیشنل ججز، جسٹس خالد حسین شاہانی اور جسٹس سید فیض الحسن شاہ، کی مدتِ ملازمت میں بھی چھ ماہ کی توسیع کی منظوری دے دی ہے، تاکہ عدالتی امور میں کسی قسم کا تعطل پیدا نہ ہو۔
پشاور ہائی کورٹ کے حوالے سے صدر آصف علی زرداری نے 6 ایڈیشنل ججز کو مستقل جج مقرر کرنے کی منظوری دی، جن میں جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض، جسٹس صلاح الدین، جسٹس صادق علی، جسٹس سید مدثر امیر اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ پشاور ہائی کورٹ کے چار ایڈیشنل ججز، جسٹس انعام اللہ خان، جسٹس فرح جمشید، جسٹس ثابت اللہ خان اور جسٹس اورنگزیب، کی مدتِ ملازمت میں بھی چھ ماہ کی توسیع کی منظوری دی گئی ہے، تاکہ عدالتی نظام میں تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔