اسٹیٹ بینک آف پاکستان آج نئے سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا، جس میں بنیادی شرح سود کے سنگل ڈیجٹ سطح پر آنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
اس حوالے سے مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس اسٹیٹ بینک کے مرکزی دفتر کراچی میں منعقد ہوگا، جہاں اجلاس کے دوران ملکی معاشی اشاریوں، مہنگائی کی موجودہ صورتحال اور دیگر اہم اقتصادی عوامل کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس کے بعد بنیادی شرح سود سے متعلق حتمی فیصلے کا باضابطہ اعلان اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد پریس کانفرنس کے ذریعے کریں گے۔
یاد رہے کہ سال 2025 کی آخری مانیٹری پالیسی میں اسٹیٹ بینک نے بنیادی شرح سود میں نصف فیصد کمی کی تھی، جس کے بعد پالیسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔
معاشی ماہرین کے مطابق حالیہ ٹریژری بلز کی نیلامیوں میں شرح سود میں مزید کمی کے واضح اشارے سامنے آئے ہیں، جہاں چار سال بعد پہلی مرتبہ حکومتی قرض پر شرح سود سنگل ڈیجٹ سطح تک آ چکی ہے۔
سروے رپورٹس میں بھی بتایا گیا ہے کہ ٹریژری بلز پر شرح سود سنگل ڈیجٹ میں آنے کے بعد بنیادی شرح سود میں مزید کمی کے امکانات مضبوط ہو گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، مہنگائی پر قابو پانے اور ترسیلات زر میں اضافے جیسے عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک بنیادی شرح سود میں آدھے سے ایک فیصد تک مزید کمی کر سکتا ہے۔