بیلجیئم کے 15 سالہ طالبعلم لورینٹ سائمنز نے کوانٹم فزکس کے شعبے میں پی ایچ ڈی مکمل کر کے دنیا بھر میں توجہ حاصل کر لی ہے۔
فلمنش ٹیلی وژن نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق لورینٹ نے رواں ہفتے یونیورسٹی آف اینٹورپ میں اپنے تحقیقی مقالے کا کامیابی سے دفاع کیا۔
لورینٹ سائمنز کو ’’بیلجیئم کا ننھا آئن اسٹائن‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور وہ ممکنہ طور پر کوانٹم فزکس میں پی ایچ ڈی حاصل کرنے والے دنیا کے کم عمر ترین افراد میں شامل ہو چکے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ عالمی درجہ بندی کا نظام موجود نہیں ہے۔
رپورٹس کے مطابق لورینٹ نے صرف چار سال کی عمر میں پرائمری اسکول میں داخلہ لیا اور چھ سال کی عمر میں ابتدائی تعلیم مکمل کر لی۔ بارہ سال کی عمر تک وہ کوانٹم فزکس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر چکے تھے، جس کے دوران انہوں نے بوسونز اور بلیک ہولز جیسے پیچیدہ موضوعات پر تحقیق کی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ لورینٹ کو غیر معمولی فوٹوگرافک یادداشت حاصل ہے اور ان کا ذہنی معیار 145 ہے، جو دنیا کی صرف 0.1 فیصد آبادی میں پایا جاتا ہے۔
گیارہ سال کی عمر میں دادا دادی کے انتقال کے بعد لورینٹ نے پی ایچ ڈی سے آگے کے اہداف مقرر کیے۔ وہ انسانی عمر میں اضافے اور ممکنہ طور پر لافانیت سے متعلق تحقیق کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مقصد ذاتی فائدے کے بجائے انسانیت کی بہتری کے لیے ہے۔
لورینٹ نے مستقبل میں طب کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے تاکہ انسانی زندگی کو طویل اور بہتر بنانے میں عملی کردار ادا کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ اگرچہ لورینٹ کی کامیابی غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے، تاہم گنیز ورلڈ ریکارڈ کے مطابق دنیا کے کم عمر ترین پی ایچ ڈی ہولڈر کا اعزاز جرمن نابغہ کارل وِٹے کے پاس ہے، جنہوں نے 1814 میں محض 13 سال کی عمر میں پی ایچ ڈی مکمل کی تھی۔