لاہور میں والڈ سٹی اتھارٹی نے اندرون لاہور کی 300 سے زائد عمارتوں کو غیر محفوظ قرار دے دیا ہے، جس سے تاریخی علاقے میں رہائش اور سرگرمیوں کے حوالے سے سنگین خدشات سامنے آئے ہیں۔
والڈ سٹی اتھارٹی نے پتنگ بازی کی اجازت کے خلاف دائر درخواست کے ساتھ اپنی تفصیلی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروا دی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بسنت سے قبل اندرون لاہور میں موجود خطرناک اور خستہ حال عمارتوں کا جامع سروے مکمل کر لیا گیا تھا، جس کے دوران عمارتوں کی ساخت، مضبوطی اور حفاظتی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اندرون لاہور کی مجموعی طور پر 346 خستہ حال عمارتوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے 183 عمارتوں کو ناقابل مرمت قرار دیا گیا ہے، جبکہ انتہائی خستہ حال 92 عمارتوں کو حفاظتی خدشات کے پیش نظر خالی کروا لیا گیا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ 254 خطرناک عمارتیں تاحال آباد ہیں، جو خطرناک قرار دیے جانے کے باوجود خالی نہیں کرائی جا سکیں۔ ان آباد عمارتوں میں 103 عمارتیں ناقابل مرمت جبکہ 151 عمارتیں قابل مرمت قرار پائی ہیں۔ دوسری جانب جو عمارتیں خالی کروائی گئی ہیں، ان میں سے 80 عمارتوں کو قابل مسمار جبکہ 12 کو قابل مرمت قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ خطرناک عمارتوں کی چھتیں بسنت کی سرگرمیوں کے لیے غیر محفوظ ہیں، جس کے باعث جانی نقصان کا خطرہ موجود ہے۔
اسی تناظر میں والڈ سٹی اتھارٹی کی جانب سے متعلقہ علاقوں میں وارننگ نوٹسز اور آگاہی بینرز آویزاں کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا جا سکے۔