بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان کو جسمانی اور ذہنی طور پر ٹارچر کرنے کے لیے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات دانستہ طور پر کیے جا رہے ہیں تاکہ عمران خان پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
گزشتہ روز اپنی بہنوں کے ہمراہ ماربل فیکٹری ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کی تعداد محض دو درجن تک محدود رہی ہے، جو کہ تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔
علیمہ خان کے مطابق منگل کے روز بھی پولیس نے عمران خان کی بہنوں کو اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت نہیں دی، جبکہ آخری ملاقات 2 دسمبر کو ممکن ہو سکی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وکیل سلمان صفدر 20 دسمبر کو عمران خان سے ملنے گئے تھے، تاہم انہیں زبردستی صرف آٹھ منٹ کی مختصر ملاقات کی اجازت دی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ حلقوں کا خیال تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو ذہنی مریض ثابت کیا جا سکے گا، تاہم عمران خان اپنی قوم کے لیے جیل میں ثابت قدمی کے ساتھ موجود ہیں۔ علیمہ خان نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ عمران خان کو ٹارچر کرنے کے لیے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔