ارسکیورٹی ذرائع نے اپوزیشن لیڈر کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج سے متعلق دیے گئے ریمارکس انتہائی افسوسناک، بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔ ذرائع کے مطابق فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ سیاسی معاملات میں مداخلت کرتی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ صرف سکیورٹی فورسز، فوج، پولیس یا فرنٹیئر کور کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر جامع اور مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے دیرپا امن ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ حملے کے دہشت گرد کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی سیاسی یا مذہبی وابستگی سے قطع نظر دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے اجتماعی یکجہتی ضروری ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ تین سال قبل روزانہ 15 سے 20 ملین لیٹر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ ہوتی تھی، تاہم اب اس غیر قانونی سرگرمی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقوم دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہوتی تھیں اور گڈ گورننس ہی وہ بنیادی ذریعہ ہے جس سے دہشت گردی کی جڑیں کاٹی جا سکتی ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے بھی نیشنل ایکشن پلان کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ صوبے میں حالیہ اجلاسوں کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت ان کا آئینی حق ہے، تاہم فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں اور تمام قانونی و عدالتی معاملات کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق عدالتیں ہی کریں گی۔
لاہور میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر سکیورٹی افسر نے کہا کہ قوم کو لسانی، صوبائی یا نسلی بنیادوں پر تقسیم ہونے سے گریز کرنا چاہیے اور متحد ہو کر ہر قسم کے فتنوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ فتنہ الہندوستان بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن ہے اور احساس محرومی کے نعرے کی آڑ میں دہشت گردی کرنے والے عناصر کو عوام پہچان چکے ہیں۔
سینئر سکیورٹی افسر نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہونے والی اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور بیرونی و اندرونی سازشی عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی بیانیہ فوج اور عوام کے درمیان مضبوط رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا، ہمارا بیانیہ صرف پاکستان ہے، اور تعلیمی اداروں کے دوروں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نوجوان نسل پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح معرکہ حق میں بھارت کو شکست دی گئی، اسی عزم کے ساتھ دہشت گردوں کو بھی شکست دی جائے گی۔