بنگلا دیش میں منعقد ہونے والے تاریخ ساز عام انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کے اتحادیوں نے واضح برتری حاصل کرلی ہے اور قومی اسمبلی کی 299 نشستوں میں سے 212 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کرلی ہے۔
نتائج کے مطابق جماعت اسلامی کے اتحاد کو 77 نشستوں پر کامیابی ملی جبکہ اس اتحاد میں شامل نوجوانوں کی نمائندہ جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی کو 5 نشستیں حاصل ہوئیں۔ انتخابی عمل کے دوران مبینہ دھاندلی اور بدانتظامی کے الزامات سامنے آنے پر الیکشن کمیشن نے 3 حلقوں کے نتائج روک دیے ہیں، جن کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
واضح برتری حاصل ہونے کے بعد بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جن قوتوں کے ساتھ مل کر سیاسی تحریک چلائی گئی، انہی کے ساتھ ملک کو بھی آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کارکنوں سے خصوصی دعاؤں کی اپیل کی اور ریلیوں یا جشن منانے سے گریز کرنے کا کہا، جبکہ امن و امان کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیا۔
جماعت اسلامی بنگلا دیش نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے شکست قبول کرلی۔ کارکنوں سے خطاب میں جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت مخالفت برائے مخالفت کی سیاست نہیں کرے گی بلکہ تعمیری اور عوامی مفاد پر مبنی سیاست کو ترجیح دے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد جماعت اپنا حتمی اور مثبت موقف پیش کرے گی۔
نیشنل سٹیزن پارٹی کے کنوینیئر ناہد اسلام نے بھی جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
عام انتخابات کے ساتھ قومی ریفرنڈم بھی منعقد ہوا جس میں 72.9 فیصد ووٹرز نے مجوزہ اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 27.1 فیصد نے مخالفت کی۔ ریفرنڈم کے بیلٹ پیپر پر عوام سے ایک سوال کے جواب میں ہاں یا ناں کا انتخاب کرنے کو کہا گیا تھا، جس کے ذریعے چار بڑی آئینی ترامیم سمیت تقریباً 30 اصلاحات پر عوامی رائے لی گئی۔ مجوزہ تبدیلیوں میں نئے آئینی اداروں کا قیام، پارلیمنٹ کو دو ایوانوں پر مشتمل بنانا اور ایوان بالا کی منظوری کے بغیر آئینی ترمیم نہ کرنے کی شرط شامل ہے۔
ووٹنگ کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے ہوا اور سہ پہر ساڑھے تین بجے تک جاری رہا۔ 300 میں سے 299 نشستوں پر 12 کروڑ 76 لاکھ سے زائد ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا جبکہ ایک حلقے میں امیدوار کی وفات کے باعث الیکشن ملتوی کر دیا گیا تھا۔
بنگلا دیشی میڈیا کے مطابق چند ناخوشگوار واقعات کے باوجود مجموعی طور پر انتخابی عمل پرامن رہا۔ انتخابی عملے کے تین ارکان کو مبینہ دھاندلی کے الزامات پر ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا جبکہ گوپال گنج میں پیٹرول حملے کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دوپہر دو بجے تک ٹرن آؤٹ 47.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا، تاہم حتمی ٹرن آؤٹ اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔