اپوزیشن اتحاد نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کے مکمل علاج تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاجی دھرنا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں اپوزیشن رہنماؤں کے ایک اہم اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جس میں یہ طے پایا کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے پر تحریک انصاف کی مرکزی قیادت دھرنا دے گی، جبکہ تمام اراکین قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اور سینیٹرز کو پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں تاکہ احتجاج کو منظم انداز میں جاری رکھا جا سکے۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ کل سے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پُرامن احتجاجی دھرنا شروع کیا جائے گا، مطالبات دھرنے کے دوران پیش کیے جائیں گے اور ان کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مطالبات تسلیم کرنے میں کوئی رکاوٹ یا غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
دوسری جانب اڈیالا جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کو فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق ایک رپورٹ سامنے آئی ہے، جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی محض 15 فیصد تک محدود رہ گئی ہے۔
سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے مطالبہ کیا کہ ان کا معائنہ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے کرایا جائے، یا کسی مستند ماہر ڈاکٹر سے طبی جانچ کی جائے۔ انہوں نے قید تنہائی اور ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کے باعث مطالعے کے لیے کتابیں فراہم کرنے کی بھی درخواست کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان کے مطابق اکتوبر 2025 تک ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی 6×6 یعنی مکمل نارمل تھی، تاہم بعد ازاں ایک آنکھ کی بینائی 15 فیصد تک رہ گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پمز کے ڈاکٹرز نے علاج کیا، مگر مسلسل دھندلاہٹ اور نظر کے مدھم ہونے کی شکایات کے باوجود جیل حکام نے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔
رپورٹ کے مطابق بعد میں ان کی دائیں آنکھ کی بینائی اچانک مکمل ختم ہو گئی، جس کے بعد پمز اسپتال کے ماہر امراض چشم ڈاکٹر محمد عارف کو معائنے کے لیے بلایا گیا۔ عمران خان نے کہا کہ آنکھ میں خون کا لوتھڑا بن گیا تھا جس سے شدید نقصان پہنچا، اور علاج کے باوجود بینائی صرف 15 فیصد تک بحال ہو سکی۔