وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ دہشتگردی کے عفریت سے نجات حاصل کرچکا ہے اور اب کچے کے ڈاکوؤں کے مکمل خاتمے کے لیے بھی مؤثر اقدامات جاری ہیں۔
پولیس ٹریننگ سینٹر سعید آباد میں پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سندھ پولیس نے دہشتگردی اور جرائم کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس کے بہادر افسران اور جوانوں کی قربانیوں کی بدولت صوبے میں امن قائم ہوا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ چند روز قبل دادو میں تین پولیس اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا، جبکہ کراچی میں سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی علی رضا کو بھی دہشتگردوں نے نشانہ بنایا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چند سال پہلے کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملے کے دوران بھی اہلکاروں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق گزشتہ سال جنوری سے دسمبر تک 1325 پولیس مقابلے ہوئے جن میں 207 ڈاکو مارے گئے۔ رواں سال یکم جنوری سے اب تک 115 مقابلوں میں 27 ڈاکو ہلاک، 82 زخمی جبکہ 81 گرفتار کیے گئے، اس کے علاوہ 153 ملزمان نے خود کو قانون کے حوالے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب روزانہ بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آتے تھے، مگر اب صورتحال بہت بہتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ کام کرتے ہوئے کچے کے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کرے گی۔