پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں ایڈیشن کا شیڈول مکمل طور پر فائنل کرلیا گیا ہے، جس میں پہلی بار آٹھ ٹیمیں میدان میں اتریں گی۔ اس حوالے سے پی ایس ایل مینجمنٹ اور فرنچائزز کے درمیان ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں شیڈول کے ساتھ دیگر اہم امور پر بھی بات چیت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق، پی ایس ایل 11 ایک بار پھر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے دوران ہی کھیلا جائے گا۔ آئندہ سال ہونے والے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے باعث پی ایس ایل کو اپریل اور مئی 2025 میں شیڈول کیا گیا ہے، جبکہ ایونٹ کے وینیوز میں بھی اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس مرتبہ پی ایس ایل میں دو نئی ٹیموں کی شمولیت متوقع ہے، جس سے ٹیموں کی مجموعی تعداد چھ سے بڑھ کر آٹھ ہو جائے گی۔ اس حوالے سے پی ایس ایل مینجمنٹ نے انویسٹرز سے رابطے شروع کر دیے ہیں، اور متعدد کاروباری شخصیات نے نئی فرنچائزز خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ دو نئی ٹیموں کی شمولیت کے باعث پی ایس ایل کے لیے مخصوص دسمبر اور جنوری کی ونڈو کو ختم کر دیا گیا ہے۔
اجلاس میں فرنچائز مالکان نے گزشتہ سیزن میں پچز کے غیر معیاری معیار پر تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ ٹیم ویلیویشن کے لیے آڈٹ فرم کی جلد تقرری پر بھی زور دیا گیا۔ پی ایس ایل روایتی طور پر فروری اور مارچ میں منعقد ہوتا ہے، لیکن رواں سال آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی وجہ سے یہ ایونٹ اپریل اور مئی میں ہوا۔
یاد رہے کہ اس وقت پی ایس ایل میں چھ ٹیمیں شامل ہیں: کراچی کنگز، لاہور قلندرز، اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور ملتان سلطانز۔ دو نئی ٹیموں کے اضافے سے نہ صرف ایونٹ کا دائرہ وسیع ہوگا بلکہ شائقین کرکٹ کو بھی مزید دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔