پاکستان کا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ لانچ کردیا گیا۔
پاکستان نے ٹیکنالوجی میں خودانحصاری کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے جمعرات کو چین کے شی چانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر (ایکس ایس ایل سی) سے اپنا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں بھیج دیا۔
یہ لانچ پاکستان کے خلائی سفر میں ایک نمایاں سنگِ میل ہے جو زمین کی نگرانی سے متعلق ملکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ منصوبہ سپارکو، چائنا الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ کارپوریشن (سی ای ٹی سی) اور مائیکروسیٹ چائنا کے درمیان تزویراتی اشتراک کا نتیجہ ہے۔
جدید امیجنگ ٹیکنالوجی سے لیس یہ سیٹلائٹ شہری منصوبہ بندی، درست زرعی حکمتِ عملی، آفات سے نمٹنے، ماحولیاتی تحفظ اور غذائی تحفظ جیسے اہم شعبوں میں مؤثر معاونت فراہم کرے گا۔
سپارکو کے ترجمان کے مطابق یہ سیٹلائٹ جنگلات کی کٹائی، گلیشیئرز کے پگھلنے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر نظر رکھنے کے علاوہ، آبی وسائل اور زرعی اراضی کے بہتر انتظام میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سیٹلائٹ انفرااسٹرکچر کی نگرانی، ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس کی نقشہ سازی اور علاقائی منصوبہ بندی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا، خصوصاً چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے ترقیاتی منصوبوں کے تناظر میں۔ یہ جغرافیائی خطرات کی نشاندہی اور قدرتی آفات جیسے سیلاب، زلزلے اور لینڈ سلائیڈنگ سے متعلق بروقت وارننگ دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کی کامیاب لانچنگ پر قوم کو مبارکباد دی۔
انہوں نے سپارکو کی پوری ٹیم، خصوصاً انجینئرز اور سائنسدانوں کو اس شاندار کامیابی پر دل کی گہرائی سے مبارکباد پیش کی۔
احسن اقبال نے کہا کہ ہم اس منصوبے میں چین کی مسلسل حمایت اور تعاون پر شکر گزار ہیں۔
انہوں نے تصدیق کی کہ سیٹلائٹ کامیابی سے اپنے مقررہ مدار میں داخل ہو چکا ہے اور جلد ڈیٹا فراہم کرنا شروع کردے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم پاکستان کی خلائی ٹیکنالوجی میں قیادت بحال کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ چین کے تعاون سے ہم آئندہ سال ایک پاکستانی خلا باز کو خلا میں بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور 2035 تک اپنا پہلا چاند مشن مکمل کر کے چاند پر قدم رکھیں گے۔
سپارکو کے چیئرمین محمد یوسف خان نے کہا کہ یہ کامیاب لانچ ایک مربوط اور مضبوط ارضی مشاہداتی نظام کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جو قومی ترجیحات کی تکمیل اور پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی میں بامعنی کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ نیا سیٹلائٹ قومی ترجیحات کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگا اور پاکستان کی پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی میں بامعنی کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیٹلائٹ کی جدید ڈیٹا حاصل کرنے کی صلاحیت، مختلف ماحولیاتی حالات میں مؤثر کارکردگی کے ساتھ، اسے ماحولیاتی نگرانی اور وسائل کے انتظام کا ایک نہایت اہم ذریعہ بناتی ہے۔
پاکستان نے حالیہ مہینوں میں خلائی تحقیق کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ رواں سال کے آغاز میں چین نے جیوچوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے پاکستان میں تیار کردہ الیکٹرو-آپٹیکل سیٹلائٹ EO-1 خلا میں بھیجا، جس کا مقصد قدرتی آفات کی پیشگی اطلاع اور وسائل کے بہتر انتظام کو یقینی بنانا ہے، بزنس ریکارڈر نے رپورٹ کیا۔