ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق درخواست میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم اور کابینہ کے خلاف عدالتی حکم عدولی پر جاری توہین عدالت نوٹس کی سماعت کے لیے چار رکنی لارجر بنچ تشکیل دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس حساس معاملے میں مزید قانونی کارروائی کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔
کاز لسٹ کے مطابق کیس کی سماعت 10 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے۔ نو تشکیل شدہ لارجر بنچ کی سربراہی جسٹس ارباب محمد طاہر کریں گے جبکہ جسٹس خادم حسین سومرو، جسٹس اعظم خان اور جسٹس راجہ انعام امین منہاس بھی بنچ میں شامل ہوں گے۔ عدالت کے اس فیصلے کو ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس معاملے پر نہ صرف عدالتی عمل بلکہ عوامی دلچسپی بھی گہری ہے۔
یاد رہے کہ یکم ستمبر کو جسٹس انعام امین منہاس نے اس کیس کو لارجر بنچ کے لیے چیف جسٹس کو بھجوا دیا تھا۔ اس سے قبل یہ معاملہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت میں زیر سماعت تھا، جہاں انہوں نے گزشتہ سماعت پر وزیراعظم اور کابینہ ارکان کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کیے تھے۔
بعد ازاں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کو ٹیکس سے متعلق مقدمات سننے کے لیے اسپیشل ڈویژن بینچ کا حصہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے پاس موجود سنگل بینچ کے تمام کیسز دیگر ججوں کو منتقل کر دیے گئے، اور اسی تناظر میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس بھی منتقل ہو کر اب لارجر بنچ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔