اندرونِ سندھ کے مختلف شہروں میں موسلادھار بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، جس نے شہری زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مسلسل بارشوں کے نتیجے میں نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں جبکہ کئی شہروں میں مواصلاتی نظام اور بجلی کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔
ٹنڈو محمد خان میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش نے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کر دیا۔ نشیبی علاقے بارش کا پانی بھر جانے کے باعث ڈوب گئے، جبکہ حیسکو نے حفاظتی اقدامات کے تحت بجلی کی فراہمی بند کر دی، جس سے شہری اندھیروں اور مشکلات میں گھر گئے۔
حیدرآباد اور گردونواح میں بھی وقفے وقفے سے تیز اور ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث وسیع علاقوں میں بجلی بند کر دی گئی ہے۔ اگرچہ بارش کے بعد موسم خوشگوار ہو گیا، لیکن شہریوں کو اندھیروں اور پانی کے جمع ہونے کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
روہڑی میں بھی شہر اور مضافات میں بارش کے دوران بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ شہریوں نے شکایت کی کہ بارش کے پہلے جھٹکوں کے ساتھ ہی بجلی چلی جاتی ہے اور بحالی میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں، جس سے روزمرہ زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔
پڈعیدن شہر اور اس کے گردونواح میں تیز ہواؤں اور بارش کے ساتھ گرمی کی شدت میں کمی آئی اور حبس کا زور ٹوٹ گیا۔ تاہم واپڈا کے مطابق 6 فیڈر ٹرپ کر گئے، جس کے نتیجے میں شہر اور دیہات میں بجلی بند ہو گئی۔
لاڑکانہ اور ملحقہ علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی، جس نے نشیبی علاقوں کو زیرِ آب کر دیا۔ بارش کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی، مگر شہریوں نے یہ کہا کہ گرمی کے کم ہونے اور موسم کے خوشگوار ہونے سے کچھ ریلیف ضرور ملا ہے۔
نوشہروفیروز میں ہلکی بارش نے گرمی کا زور توڑ دیا اور موسم خوشگوار کر دیا، تاہم بجلی کی فراہمی میں رکاوٹیں برقرار رہیں۔ اسی طرح جوہی شہر میں تیز آندھی کے بعد شروع ہونے والی بارش نے نظامِ زندگی متاثر کیا اور شہر اندھیرے میں ڈوب گیا۔
ان مسلسل بارشوں نے اگرچہ موسم کو خوشگوار بنا دیا ہے اور گرمی کی شدت میں کمی آئی ہے، لیکن بجلی کی بندش اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے باعث شہری مشکلات سے دوچار ہیں۔