معروف ماہرِ تعلیم اور اردو زبان کی ممتاز محقق ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا انتقال کر گئیں۔ مرحومہ طویل عرصے سے فارمن کرسچن کالج میں تاریخ کی پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی تھیں، جبکہ اس سے قبل وہ لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی پرنسپل بھی رہ چکی تھیں جہاں انہوں نے اعلیٰ تعلیمی معیار کے فروغ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا پنجاب کی نگران صوبائی وزیر کے طور پر بھی اپنے فرائض انجام دے چکی تھیں، اس کے علاوہ وہ قومی کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن کے اہم منصب پر بھی فائز رہیں اور اس دوران خواتین کے حقوق سے متعلق مختلف پالیسی معاملات میں قابلِ ذکر خدمات انجام دیں۔
مرحومہ نے ایم اے اردو گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا تھا جبکہ انہوں نے ایسٹ ویسٹ سینٹر، یونیورسٹی آف ہوائی سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی تھی۔ عارفہ سیدہ 1986ء سے 2009ء تک گورنمنٹ کالج فار ویمن گلبرگ لاہور کی پرنسپل رہیں جہاں ان کی انتظامی صلاحیتوں اور تعلیمی خدمات کو بے حد سراہا گیا۔ وہ سات مختلف زبانوں پر عبور رکھتی تھیں اور مختلف تعلیمی، انتظامی، سماجی اور ثقافتی کمیٹیوں کا حصہ بھی رہیں۔
مرحومہ اردو زبان، ادب اور جنوبی ایشیائی معاشرتی امور پر گہری بصیرت رکھتی تھیں۔ صدرِ مملکت سمیت علمی و ادبی حلقوں نے ان کے انتقال پر دلی افسوس کا اظہار کیا۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کی وفات پاکستان کے علمی اور ادبی ماحول کے لیے ایک بڑا اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا نے اپنی پوری زندگی علم، تحقیق اور خدمتِ انسانیت کے لیے وقف کر کے ایک روشن مثال قائم کی، جبکہ قومی زبان کے فروغ اور علمی شعبے میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔