ملک بھر میں آج سے انسدادِ پولیو مہم کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے، جس کے تحت مختلف صوبوں میں لاکھوں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ مہم کے دوران سکیورٹی اور نگرانی کے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
سندھ میں سات روزہ انسدادِ پولیو مہم کا آغاز وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی کے گورنمنٹ گرلز اینڈ بوائز سیکنڈری اسکول، چنیسر گوٹھ میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر کیا۔ ترجمان وزیرِ اعلیٰ کے مطابق اس موقع پر عالمی ادارۂ صحت اور یونیسیف کے نمائندے بھی تقریب میں موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ آج سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم 8 فروری تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیو سے پاک سندھ حکومت کا عزم اور سب کی مشترکہ ذمے داری ہے، اور اس مقصد کے لیے ہر سطح پر عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ مہم کے دوران صوبے بھر میں ایک کروڑ پانچ لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے خلاف جنگ میں والدین کا تعاون فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے، جبکہ سندھ بھر کے 89 لاکھ گھروں تک پولیو ٹیمیں پہنچیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے 30 اضلاع کی 1490 یونین کونسلز میں پولیو ورکرز گھر گھر جا کر مہم چلائیں گے اور اس دوران 80 ہزار سے زائد ورکرز خدمات انجام دیں گے، جبکہ تعاون نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی کی جائے گی۔
وزیرِ اعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم وزیرِ اعظم اور حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ پولیو ورکرز کی انتھک محنت سے ممکن ہو گا جو گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلا رہے ہیں۔ انہوں نے یونیسیف اور عالمی ادارۂ صحت کا تعاون پر شکریہ ادا کیا اور والدین، علما، اساتذہ اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ انسدادِ پولیو مہم میں بھرپور کردار ادا کریں۔
ترجمان محکمۂ صحت سندھ کے مطابق صوبے بھر میں جاری سات روزہ مہم کے دوران ایک کروڑ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 80 ہزار سے زائد پولیو ورکرز مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان میں بھی سات روزہ انسدادِ پولیو مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔ ایمرجنسی آپریشن سینٹر حکام کے مطابق صوبے میں 26 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ اس مہم میں 11 ہزار ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ حکام کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ 15 ماہ کے دوران پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
خیبر پختون خوا میں رواں سال کی پہلی پانچ روزہ انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع ہو گئی ہے۔ محکمۂ صحت کے مطابق صوبے میں 65 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے، جبکہ مہم کے لیے 35 ہزار پولیو ٹیمیں اور 50 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں 8 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ سال صوبے میں پولیو کے 20 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
پنجاب میں بھی انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ راولپنڈی میں رواں سال کی پہلی چار روزہ انسدادِ پولیو مہم شروع ہو گئی ہے جو 5 فروری تک جاری رہے گی، جس کے دوران 10 لاکھ 57 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے اور 8 ہزار ورکرز ڈیوٹی انجام دیں گے۔
اسی طرح سرگودھا میں بھی انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کمشنر حافظ شوکت علی نے بچوں کو قطرے پلا کر کیا۔ ڈپٹی کمشنر سرگودھا کے مطابق اس مہم کے دوران 7 لاکھ 9 ہزار 266 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔