اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بیرونی سرمایہ کاری اور برآمدات دونوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو معاشی صورتحال پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق فروری 2026 کے دوران بیرونی سرمایہ کاری کا مجموعی حجم 18.67 کروڑ ڈالر رہا، جس میں سے 13.55 کروڑ ڈالر نجی شعبے میں جبکہ 5.1 کروڑ ڈالر سرکاری شعبے میں سرمایہ کاری کی صورت میں آئے۔
اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ رواں مالی سال کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران مجموعی بیرونی سرمایہ کاری 70.41 کروڑ ڈالر رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال 2025 کے اسی عرصے میں یہ حجم 1.58 ارب ڈالر تھا، جس کے مقابلے میں رواں سال بیرونی سرمایہ کاری میں 44 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب برآمدات کے حوالے سے بھی اعداد و شمار میں کمی سامنے آئی ہے، جہاں جنوری 2026 کے مقابلے میں فروری 2026 کے دوران ملکی برآمدات میں 9.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح مالی سال 2026 کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران مجموعی برآمدات 5.4 فیصد کم ہو کر 20.74 ارب ڈالر تک محدود رہ گئیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق جنوری کے مقابلے میں فروری کے مہینے میں ٹیکسٹائل برآمدات میں 7 فیصد کمی آئی، تاہم مجموعی طور پر آٹھ ماہ کے دوران ٹیکسٹائل برآمدات میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 11.91 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
مزید تفصیلات کے مطابق مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں فوڈ گروپ کی برآمدات میں 32.5 فیصد کی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جبکہ اسی عرصے کے دوران چاول کی برآمدات میں تقریباً 39.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری کے مقابلے میں فروری کے دوران امریکا کو برآمدات میں 9 فیصد اور چین کو برآمدات میں 14.2 فیصد کمی ہوئی، جبکہ مجموعی طور پر رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں چین کو برآمدات میں 23 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس جولائی سے فروری کے دوران امریکا کو برآمدات میں 3.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔