امریکی ویب سائٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات پاکستان، ترکیہ اور مصر کی سہولتکاری میں ہوئے ہیں، جس سے خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی کا عندیہ ملتا ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایکزیوس کے رپورٹر بارک روید کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور مصر امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جس کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار رکھے جا رہے ہیں۔
بارک روید کے مطابق یہ مذاکرات انہی ممالک کی سہولتکاری میں ممکن ہوئے، جو پس پردہ رابطوں کے ذریعے دونوں فریقین کو قریب لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسرائیلی حکام کے مطابق ثالثی کرنے والے ممالک چاہتے ہیں کہ اس ہفتے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی اسلام آباد میں ایرانی وفد سے ملاقات کروائی جائے، جس میں ایرانی اسپیکر غالیباف بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب برطانوی اخبار کے مطابق پاکستان خود کو ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے، جبکہ سینئر پاکستانی حکام ایرانی عہدیداروں اور امریکی نمائندوں کے درمیان بیک چینلز کے ذریعے رابطے کروا رہے ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر متعلقہ فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہے اور امن کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔