ایک اہم سفارتی اور اسٹرٹیجک پیش رفت کے طور پر پاکستان ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن کر ابھرا ہے، اور جو ملک کبھی سفارتی تنہائی اور معاشی غیر یقینی صورتحال سے دوچار سمجھا جاتا تھا، وہ اب علاقائی اور بین الاقوامی معاملات میں ایک کلیدی کردار ادا کرنے والے فریق کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
چند برس قبل، پاکستان کو سفارتی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے ساتھ تنہائی کا بھی سامنا تھا۔ آج اسی پاکستان کا نام دنیا کے انتہائی نازک اور وسیع اثرات کے حامل اس تنازع میں ممکنہ ثالث کے طور پر زیرِ بحث آ رہا ہے، جس کے اثرات سے دنیا کا تقریباً ہر فرد سامنا کر رہا ہے۔
جس وقت ایران جنگ کے اثرات سے پوری دنیا متاثر تھی اور اس کے فوری خاتمے کی کوئی امید نظر نہیں تھی، اس وقت پاکستان پیر کے روز عالمی خبروں کی زینت بنا، جب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے ذرائع کے حوالے سے یہ خبر جاری کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار پاکستان ادا کر رہا ہے۔
یہ تبدیلی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے، جس میں سفارتی روابط کے فروغ اور سول و عسکری ہم آہنگی کو یکجا کیا گیا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان مضبوط تعلق اس کوشش کا مرکزی عنصر ہے، جس میں سیاسی قیادت اور ادارہ جاتی قوت کا امتزاج نمایاں ہے۔ منگل کو وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پیشکش کی کہ اسلام آباد کو امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کیلئے ممکنہ مقام کے طور پر دیکھا جائے۔ یہ اقدام امن و استحکام کیلئے پاکستان کے عزم کا اظہار ہے۔
وزیرِ اعظم نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کہا کہ پاکستان بامعنی اور حتمی مذاکرات کیلئے سہولت فراہم کرنے کیلئے تیار اور اس پر فخر محسوس کرتا ہے۔ اس بیان کے ساتھ انہوں نے بڑھتی عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران پاکستان کو ایک معتبر اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر پیش کیا۔ اس کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شہباز شریف کی اس پوسٹ کو ایکس پر دوبارہ شیئر کیا، جسے ایک محتاط تائید کے طور پر دیکھا گیا اور اس سے یہ امید پیدا ہوئی کہ جنگ کا خاتمہ جلد ممکن ہو سکتا ہے۔
یہ تمام پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغام رسانی میں پاکستان ایک خاموش لیکن اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سعودی عرب، ترکی اور مصر جیسے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی اسلام آباد کے بڑھتے سفارتی اثر و رسوخ کی غمازی کرتی ہے۔ وزیرِ اعظم، آرمی چیف اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، جو نائب وزیرِ اعظم بھی ہیں، متعلقہ عالمی فریقین سے مسلسل رابطوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
اس سفارتی بحالی کے پس منظر میں سول و عسکری سطح پر غیر معمولی ہم آہنگی کارفرما ہے۔ اعلیٰ حکام کے مطابق، خلیجی بحران کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان مسلسل اور فوری رابطہ برقرار رہا، جیسا کہ گزشتہ سال مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران دیکھنے میں آیا تھا۔ یہ یکجہتی فیصلہ کن ثابت ہو رہی ہے، جیسا کہ بھارت کے ساتھ تصادم کے وقت ہوا تھا۔
علاقائی کشیدگی سے نمٹنے میں پاکستان کے طرزِ عمل کو بین الاقوامی سطح پر اس کی برداشت اور وضاحت کے باعث سراہا گیا۔ پاکستان نہ صرف کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے میں کامیاب رہا بلکہ اس نے خود کو ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر بھی پیش کیا جو مذاکرات کی حامی ہے، جسے دنیا کے بعض بااثر دارالحکومتوں، خصوصاً واشنگٹن، نے سراہا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی ایران کیخلاف جنگ حالیہ عرصے کے سنگین ترین تنازعات میں سے ایک ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کا کردار اپنی روایتی حدود سے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ چاہے جنوبی ایشیا ہو یا مشرقِ وسطیٰ، اسلام آباد کو اب ایک خاموش تماشائی کے بجائے ایک پل کا کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اور آج استحکام کی متلاشی دنیا میں پاکستان عالمی اسٹیج پر ایک بار پھر نمایاں ہو کر بین الاقوامی برادری کیلئے امید کی علامت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔