وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان جاری بحران کے خاتمے کے لیے بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، اور اگر امریکا اور ایران اس پر رضامند ہوں تو یہ پاکستان کے لیے باعث فخر ہوگا۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ خطے اور دنیا بھر میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں، اور پاکستان ہمیشہ سے مسائل کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششوں کا حامی رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے، اور تنازع کے جامع حل اور بامعنی مذاکرات کی میزبانی کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کرتا ہے، جسے ایک اعزاز سمجھا جائے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا، جس میں خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
اسی دوران مختلف میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس، نمائندہ خصوصی وٹکوف اور جیرڈ کشنر ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے بھی اس حوالے سے کہا ہے کہ اگر متعلقہ فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان ثالثی کے عمل کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔