انسانیت کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والے عبدالستار ایدھی کا92واں پیدائش آج منایا جارہا ہے۔
عبدالستار ایدھی 28فروری 1928میں بھارت کی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوئے۔
ایدھی نے گیارہ سال کی عمر میں اپنی ماں کی دیکھ بھال کا کام سنبھالا جو ذیابیطس میں مبتلا تھیں۔
چھوٹی عمر میں ہی انہوں نے اپنے سے پہلے دوسروں کی مدد کرنا سیکھ لیا تھا، جو آگے کی زندگی کے لیے کامیابی کی کنجی ثابت ہوئی،تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آیا اور کراچی میں آباد ہوئے۔
1951 میں ایدھی صاحب نے اپنی جمع پونجی سے ایک چھوٹی سی دکان خریدی اور اسی دکان میں ایک ڈاکٹر کی مدد سے چھوٹی سی ڈسپنسری کھولی جنہوں نے ان کو طبی امداد کی بنیادی باتیں سکھائیں،
اسکے علاوہ آپ نے یہاں اپنے دوستوں کو تدریس کی طرف بھی راغب کیا۔ آپ نے سادہ طرز زندگی اپنایا اور ڈسپنسری کے سامنے بنچ پر ہی سو لیتے تاکہ بوقت ضرورت فوری طور پر مدد کو پہنچ سکیں۔
1957میں کراچی میں بہت بڑے پیمانے پر فلو کی وبا پھیلی جس پر ایدھی نے فوری طور پر رد عمل کیا۔
انہوں نے شہر کے نواح میں خیمے لگوائے اور مفت ادویات فراہم کیں،مخیر حضرات نے انکی دل کھول کر مدد کی اور ان کے کاموں کو دیکھتے ہوئے باقی پاکستان نے بھی۔
امدادی رقم سے انہوں نے وہ پوری عمارت خرید لی جہاں ڈسپنسری تھی اور وہاں ایک زچگی کے لیے سنٹر اور نرسوں کی تربیت کے لیے اسکول کھول لیا، اور یہی ایدھی فاؤنڈیشن کا آغاز تھا۔
عبدالستار ایدھی نے ایک طویل عہد انسانیت کی خدمات میں گزارا اور 1951 میں کراچی میں ایک ڈسپینسری سے سماجی خدمت کا آغاز کیا جو اب بڑھ کر چاروں صوبوں میں پھیل چکا ہے۔
ا یدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس، لاوارث بچوں اور بزرگ افراد کے لیے مراکز اور منشیات کے عادی لوگوں کی بحالی کے مراکز بھی قائم ہو چکے ہیں۔
8جولائی 2016میں ایدھی صاحب گردوں کے عارضے میں مبتلاہو کر 88سال کی عمر میں جہانِ فانی سے کوچ کر گئے جن کی خدمات کے اعتراف میں انہیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا ،حکومتِ پاکستان نے انہیں بعد از مرگ نشانِ امتیاز سے بھی نوازا۔