روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بیجنگ پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا سرخ قالین پر پرتپاک استقبال کیا گیا، اور اس دورے کو ایک ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی توانائی سپلائی سے متعلق خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں اقدامات کے بعد عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے، جس کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں اور مختلف ممالک صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق چین اپنی تیل کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے پورا کرتا ہے، اور اس اہم راستے میں کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کو عالمی معیشت کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین پر اثر پڑ سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق سرگئی لاوروف کا یہ دورہ چین اور روس کے درمیان مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، ایران تنازع اور عالمی توانائی کے اہم راستوں کی سیکیورٹی پر مشاورت کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے، جبکہ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان سفارتی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔