پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے وزیراعظم کے لیے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا نام پیش کردیا جبکہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) نے بلاول بھٹو کے نام کی توثیق کردی۔
سابق صدر آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی سربراہی میں پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہوا، ہائبرڈ اجلاس میں تمام اراکین موجود تھے۔
پی پی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں انتخابات پر بات چیت ہوئی اور ملکی صورتحال و انتخابات کے حوالے سے سیاسی رابطوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اراکین نے آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا۔
آصف زرداری نے وزیراعظم کے لئے بلاول بھٹو کا نام پیش کیا اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے بلاول بھٹو کے نام کی توثیق کردی۔
آٹھ فروری کو الیکشن ضرور ہوں گے پارٹی جو بھی ذمہ داری دے گی، نبھاؤں گا، بلاول بھٹو
سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہوا، صدر زرداری نے مجھے وزیراعظم کا امیدوار نامزد کیا ہے، اس فیصلے کی سی ای سی کے ارکان نے توثیق کی اس پر میں شکر گزار ہوں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ انشاء اللہ آٹھ فروری کو الیکشن ضرور ہوں گے، پارٹی کی جانب سے جو بھی ذمہ داری دی جائے گی، نبھاؤں گا، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ اپنے نظریے اور منشور پر انتخابات لڑا، پیپلزپارٹی نفرت کی سیاست کو دفن کرکے آگے بڑھنا چاہتی ہے، چاہتے ہیں ایسے معاشی پلان لے کر آئیں جس سے عام آدمی کو فائدہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ گڑھی خدا بخش میں اپنے 10 نکاتی منشور کو پیش کیا، پاکستان کے عوام سے 10 وعدے کیے ہیں اس کو پورا کریں گے، منشور کے تحت تنخواہیں بڑھائیں گے، پسماندہ علاقوں میں سولر بجلی لائیں گے، سولر پارک بناکرعوام کو 300 یونٹ مفت بجلی فراہم کریں گے، منشور کے تحت مفت تعلیم اور مفت صحت کی سہولیات فراہم کریں گے،
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ سندھ میں سیلاب متاثرین کو گھربنا کر دے رہے ہیں، ملک بھر میں عوام کو زمین کے مالکانہ حقوق دیں گے، بے نظیر کارڈ کے بعد کسانوں کے لیے کسان کارڈ لائیں گے، مزدوروں کو سوشل سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے مزدور کارڈ لائیں گے، نوجوانوں کو ایک سال کے لیے مالی مدد فراہم کریں گے، طلبہ کو قرض کی سہولت فراہم کریں گے۔