سندھ چیمبر آف ایگریکلچر (ایس سی اے) نے زرعی آمدنی پر 45 فیصد ٹیکس کو غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ۔ چیمبر نے اعلان کیا کہ اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا اور سندھ بھر کے کسانوں سے رواں سال گندم کی کاشت کے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی۔
یہ فیصلے چیمبر کے مرکزی دفتر حیدرآباد میں ہونے والے اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت چیف پیٹرن و مرکزی صدر پروفیسر ڈاکٹر سید ندیم قمر نے کی۔ اجلاس میں سندھ بھر سے تعلق رکھنے والے کسانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اجلاس میں کسانوں نے حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی ہدایت پر زرعی آمدنی پر 45 فیصد ٹیکس کے نفاذ کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ جب زرعی اجناس کی مناسب قیمت تک نہیں مل رہی تو بھاری ٹیکس لگانا زیادتی ہے۔ چیمبر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو بھی وہی ٹیکس مراعات دی جائیں جو صنعتکاروں کو دی جارہی ہیں۔
چیمبر نے کسانوں سے ٹیکس ادا نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے گرفتاریوں کا سہارا لیا تو سندھ کے لاکھوں کسان گرفتاری دینے کو تیار ہوں گے، مگر ٹیکس ادا نہیں کریں گے۔ زرعی آمدنی ٹیکس کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے چیمبر نے حکومت پر زور دیا کہ وہ یہ فیصلہ واپس لے۔
گندم کی کم قیمتوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیمبر نے 2025-2026 کے سیزن میں گندم کی کاشت کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ کسانوں کو متبادل کے طور پر سرسوں، کلونجی، سورج مکھی اور دیگر تیل دار اجناس کی کاشت کا مشورہ دیا گیا۔ چیمبر کے مطابق گندم کی موجودہ قیمتیں اس حد تک کم ہیں کہ کسان لاگت تک پوری نہیں کر پا رہے۔
کپاس کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے چیمبر نے کہا کہ پیداوار میں رواں سال 40 فیصد کمی کا خدشہ ہے اور کل پیداوار 40 لاکھ گانٹھوں سے زائد نہیں ہو سکے گی۔ کسانوں کو فی من صرف 6,500 روپے مل رہے ہیں، حالانکہ صوبائی وزیر زراعت نے 11,000 روپے فی من کا وعدہ کیا تھا جو ابھی تک پورا نہیں ہوا۔
چیمبر نے مطالبہ کیا کہ کپاس پر عائد 18 فیصد مقامی ٹیکس کو فوری طور پر ختم کرکے صفر کیا جائے اور درآمدی کپاس پر 25 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے تاکہ مقامی کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی ہو اور درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔