پاکستان میں کیش لیس معیشت کے قیام کے لیے وزیرِاعظم کی ہدایت پر قائم خصوصی کمیٹیوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے لیے نئے قومی اہداف طے کر دیے ہیں۔ ان اہداف کا مقصد ڈیجیٹل فنانشل سروسز اور فن ٹیک کے استعمال کو بڑھا کر معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔
نئے منصوبے کے مطابق فعال ڈیجیٹل مرچنٹس کی تعداد مالی سال 2025-26 کے اختتام تک 20 لاکھ تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اسی طرح موبائل اور انٹرنیٹ بینکنگ صارفین کی تعداد کو موجودہ 9 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھا کر ایک سال میں 12 کروڑ تک پہنچانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سالانہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی تعداد کو دوگنا کر کے 15 ارب تک پہنچانے کا ہدف بھی شامل ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق ترسیلاتِ زر کے شعبے میں بھی انقلابی تبدیلی لائی جائے گی۔ منصوبے کے تحت یہ ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ 100 فیصد ترسیلات صرف بینک اکاؤنٹس یا موبائل والیٹس کے ذریعے منتقل ہوں گی، جبکہ اس وقت یہ شرح 80 فیصد ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد نقد ادائیگیوں کا خاتمہ اور ترسیلات میں زیادہ شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
اسٹیٹ بینک کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ موبائل بینکنگ سہولیات کو معاشرے کے ہر طبقے تک وسعت دی جائے تاکہ مالی شمولیت میں اضافہ ہو اور غیر بینک شدہ آبادی کو جدید سہولیات تک رسائی حاصل ہو۔
وزیرِ اطلاعات و ٹیکنالوجی شزا فاطمہ نے کہا کہ پاکستان کے پاس پہلے ہی 14 کروڑ 30 لاکھ سے زائد براڈ بینڈ صارفین موجود ہیں، جو ملک کو کیش لیس معیشت کی طرف منتقل کرنے کی بھرپور صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موبائل والیٹس کی تعداد اب روایتی بینک اکاؤنٹس سے بھی بڑھ چکی ہے اور برانچ لیس بینکنگ کا ڈھانچہ بھی مضبوط ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ملک میں موجود چار موبائل آپریٹرز میں سے صرف دو (جاز اور ٹیلی نار) ہی بڑے اور مستحکم موبائل والیٹ پلیٹ فارمز فراہم کر رہے ہیں۔
ٹیلی نار کا “ایزی پیسہ” جو 2009 میں متعارف کرایا گیا تھا، اب ملک کا پہلا ڈیجیٹل بینک بن چکا ہے اور تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ ماہانہ فعال صارفین رکھتا ہے۔ جاز کیش نے 2012 میں آغاز کیا اور آج ملک کا سب سے بڑا ڈیجیٹل فنانشل سروس فراہم کنندہ ہے جس کے 2 کروڑ 10 لاکھ ماہانہ فعال صارفین ہیں۔
دوسری جانب یوپیسہ محدود پیمانے پر کام کر رہا ہے جبکہ زونگ نے ابھی تک اس مارکیٹ میں قدم نہیں رکھا۔ ماہرین کے مطابق موبائل ڈیجیٹل والیٹس کی اصل طاقت ان کی سادگی اور سہولت میں ہے، جس نے انہیں عوام میں تیزی سے مقبول بنایا ہے۔