ملک میں پولیو کے دو مزید کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں ایک کیس سندھ کے ضلع بدین جبکہ دوسرا کیس خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر کوہستان سے سامنے آیا ہے۔ اس تازہ پیش رفت کے بعد رواں سال پاکستان میں پولیو کے مریضوں کی مجموعی تعداد 21 ہو چکی ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے مطابق ملک بھر میں انسدادِ پولیو کی ایک بڑی خصوصی مہم یکم ستمبر سے شروع کی جائے گی۔ اس مہم کے دوران والدین کو بھرپور طریقے سے آگاہی دی جائے گی تاکہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائیں۔
این ای او سی کے بیان میں والدین کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ پولیو ایک ناقابلِ علاج بیماری ہے اور اس کا واحد حل ویکسینیشن ہے۔ اس کے ذریعے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچایا جا سکتا ہے۔
حکام نے یہ بھی کہا کہ والدین کو چاہیے کہ وہ پولیو ویکسین کے ساتھ دیگر حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی بروقت مکمل کروائیں کیونکہ انسدادِ پولیو مہم میں والدین اور کمیونٹی کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
این ای او سی نے عوام پر زور دیا کہ وہ پولیو ورکرز سے بھرپور تعاون کریں کیونکہ یہ اقدام آنے والی نسلوں کے بہتر اور محفوظ مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔