حکومت نے وزارتِ داخلہ میں ایک اہم اور غیر معمولی اقدام اٹھاتے ہوئے روایتی طور پر سینئر سول افسران کے پاس رہنے والے ایڈیشنل سیکریٹری کے منصب پر پہلی مرتبہ ایک حاضر سروس فوجی افسر کو تعینات کردیا ہے۔ اس فیصلے کو ملک میں انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے سول اور عسکری اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پیر کے روز جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ میجر جنرل نور ولی خان ایچ آئی (ایم) کو وزارتِ داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن میں ایڈیشنل سیکریٹری (بی ایس-21) تعینات کردیا گیا ہے۔ یہ تعیناتی سیکنڈمنٹ کی بنیاد پر تین سال کے لیے ہوگی اور فوری طور پر نافذالعمل ہوگی۔ نوٹیفکیشن وزیراعظم آفس، ایوانِ صدر، کابینہ ڈویژن، وزارتِ داخلہ، وزارتِ دفاع اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ارسال کردیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ جولائی میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے ایک بیان میں عندیہ دیا تھا کہ وزارتِ داخلہ میں ایک حاضر سروس فوجی افسر کو شامل کیا جائے گا تاکہ انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز میں سول آرمڈ فورسز اور فوج کے درمیان مزید مؤثر تعاون ممکن بنایا جا سکے۔ وزارتِ داخلہ کے انتظامی دائرہ اختیار میں فرنٹیئر کور، رینجرز، کوسٹ گارڈز، گلگت بلتستان اسکاوٹس اور فیڈرل کنسٹیبلری شامل ہیں جو ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مصروف عمل ہیں۔
ذرائع کے مطابق میجر جنرل نور ولی خان اس سے قبل بھی اہم عسکری اور انٹیلیجنس ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ دوسری جانب ان کے پیش رو سہیل حبیب تاجک، جو پولیس سروس آف پاکستان کے بی ایس-21 افسر ہیں، کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاہم انہیں کوئی نیا قلمدان نہیں دیا گیا۔ ایک علیحدہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ سہیل حبیب تاجک کو فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں چھوڑ کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنا ہوگا۔
سہیل حبیب تاجک اس سے قبل ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمنسٹریشن کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے، جبکہ وزارت میں نذر محمد بزدار ایڈیشنل سیکریٹری انٹرنل اینڈ فارنرز سکیورٹی اور سلمان چوہدری ایڈیشنل سیکریٹری بارڈر مینجمنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میجر جنرل نور ولی خان کی تعیناتی کے بعد وزارتِ داخلہ میں مزید تبدیلیوں کا امکان ہے۔