اقوام متحدہ نے پاکستان میں حالیہ سیلاب سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔ یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں آنے والے سیلاب نے سینکڑوں خاندانوں کو غمزدہ کر دیا ہے اور لاکھوں افراد کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
ترجمان کے مطابق سیلاب کے نتیجے میں اب تک 400 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً 15 لاکھ لوگ براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ لاکھوں متاثرین کو فوری طور پر امداد اور ریلیف کی ضرورت ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ سیکریٹری جنرل نے پنجاب میں 10 لاکھ سے زائد افراد کی محفوظ مقامات پر منتقلی کے اقدام کو سراہا ہے اور پاکستانی حکام کے اقدامات کو مثبت قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس کڑے وقت میں پاکستانی عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان خاندانوں کے غم میں شریک ہیں جنہوں نے اپنے پیارے کھو دیے، اور وہ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کے ریلیف اور بحالی کی کوششوں میں مدد کے لیے ابتدائی طور پر 6 لاکھ ڈالر جاری کیے ہیں تاکہ فوری نوعیت کی امداد پہنچائی جا سکے۔
ادھر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ سیلاب اور بارشوں نے اب صوبہ سندھ کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ حکام کے مطابق پنجند کے مقام سے آنے والا بڑا سیلابی ریلا جلد ہی سندھ میں داخل ہوگا، اور کئی مقامات پر اس وقت بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق ہیڈ پنجند سے آنے والا ریلا گڈو بیراج کی طرف بڑھے گا، جبکہ دوسری جانب بھارت سے بارشوں کا نیا سسٹم بھی 6 ستمبر کو سندھ میں داخل ہوگا، جس کے نتیجے میں ٹھٹہ، سجاول، میرپورخاص اور بدین میں 6 سے 10 ستمبر کے دوران مزید بارشوں کا امکان ہے۔