متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیشِ نظر ایک بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اب مشہور شخصیات یا قومی علامتوں کی تصویر کشی بغیر اجازت کے کرنا غیر قانونی تصور ہوگا۔ اس حوالے سے اماراتی میڈیا کونسل نے ایک سخت انتباہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے مشہور ہستیوں اور قومی علامتوں کی غیر مجاز تخلیق یا ان کے استعمال کے ساتھ ساتھ گمراہ کن مواد پھیلانا، ملک کے میڈیا قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
میڈیا کونسل کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں نہ صرف پیشہ ورانہ اور اخلاقی ذمہ داریوں کے خلاف ہیں بلکہ ان پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور انتظامی سزاؤں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ عوام کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ اے آئی ٹولز کا استعمال اس انداز میں نہ کریں جس سے کسی کی شناخت متاثر ہو یا قومی وقار کو نقصان پہنچے۔
اماراتی ضوابط کے تحت یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ حکومت کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی مشہور شخصیت یا قومی علامت کی تصویر کشی کے لیے اے آئی ٹولز کا استعمال میڈیا قوانین کی سنگین خلاف ورزی شمار ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ نفرت انگیزی، جھوٹا پروپیگنڈا، کردار کشی اور سماجی اقدار پر حملہ بھی مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔ ایسے منفی اقدامات پر نہ صرف مالی جرمانے عائد کیے جائیں گے بلکہ قانونی اور انتظامی کارروائی بھی کی جائے گی۔
حالیہ برسوں میں یو اے ای نے سوشل میڈیا کے حوالے سے اپنے ریگولیشنز مزید سخت کیے ہیں تاکہ عوام کو جعلی خبروں اور نقصان دہ مواد سے بچایا جا سکے۔ دنیا بھر میں بھی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے بڑھتے ہوئے استعمال پر گہری تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ متعدد عالمی شہرت یافتہ شخصیات نے شکایات درج کروائی ہیں کہ ان کی آوازیں اور چہرے جعلی مقاصد کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں، جس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یو اے ای میں اگلے ماہ سے ایک نیا اشتہاری لائسنس سسٹم بھی نافذ کیا جائے گا، اور اب تک 75 ممالک کے 1800 سے زائد افراد کو اس ضمن میں اجازت نامے جاری کیے جا چکے ہیں۔ میڈیا کونسل نے حال ہی میں ایک ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے خلاف بھی کارروائی کی ہے جس نے بغیر منظوری طبی دعوؤں پر مبنی اشتہار شائع کیا تھا، جسے بعد میں گمراہ کن اور غیر معیاری قرار دیا گیا۔