پاکستان میں تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی اکتوبر کے مہینے میں مجموعی فروخت 15 لاکھ ٹن رہی، جو سالانہ بنیاد پر تقریباً وہی سطح برقرار رکھتی ہے۔ تاہم ماہانہ بنیاد پر فروخت میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جسے ماہرین نے فصلوں کی کٹائی کے دوران ڈیزل کے زیادہ استعمال اور کھپت میں تیزی کی وجہ قرار دیا ہے۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی مائشہ سہیل نے کہا کہ مون سون بارشوں اور مختلف علاقوں میں آنے والے سیلاب کے بعد حالات بہتر ہونے پر ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی طلب میں نمایاں بحالی دیکھنے میں آئی، جس نے مجموعی فروخت کو سہارا دیا۔
مالی سال 2026 کے ابتدائی چار ماہ میں او ایم سیز کی مجموعی فروخت 54 لاکھ ٹن رہی، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے 52 لاکھ ٹن کے مقابلے میں 4 فیصد زیادہ ہے۔
اکتوبر کے دوران پیٹرول کی فروخت سالانہ بنیاد پر 2 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 4 فیصد کمی کے ساتھ 6 لاکھ 57 ہزار ٹن رہی۔ لیکن مالی سال 2026 کے ابتدائی چار ماہ میں پیٹرول کی مجموعی کھپت 4 فیصد اضافہ کے ساتھ 26 لاکھ 28 ہزار ٹن تک پہنچ گئی۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت اکتوبر میں سالانہ بنیاد پر 4 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 21 فیصد بڑھ کر 7 لاکھ 14 ہزار ٹن رہی۔ مالی سال کے ابتدائی چار ماہ میں ڈیزل کی کل فروخت 23 لاکھ 36 ہزار ٹن رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہے۔
اس کے برعکس، فرنس آئل کی کھپت میں اکتوبر میں سال بہ سال 52 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں فروخت 28 ہزار ٹن تک محدود رہی۔ تاہم ماہانہ بنیاد پر اس میں 108 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جو بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی عارضی ضرورت کے تحت ہوا۔ مالی سال 2026 کے آغاز میں چار ماہ کے دوران فرنس آئل کی مجموعی فروخت 75 ہزار ٹن رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 72 فیصد کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں فرنس آئل فروخت کرنے والی نمایاں کمپنیوں میں سائنرجی، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور پرل پارکو شامل ہیں۔
مائشہ سہیل نے اپنی آؤٹ لک رپورٹ میں بتایا کہ مالی سال 2026 میں مجموعی تیل کی فروخت 7 سے 10 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے، جس کی وجہ بہتر معاشی سرگرمیاں، ٹرانسپورٹ کی بڑھتی ہوئی طلب اور زراعت کے شعبے میں بہتری بتائی گئی ہے۔