پاکستان کی پہلی وفاقی آئینی عدالت نے مقدمات کی سماعت کا باقاعدہ آغاز کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر دو میں سماعت کا آغاز کیا جہاں چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ مقدمات کی سماعت کر رہا ہے، بینچ میں سٹس علی باقر نجفی اور جسٹس ارشد حسین شاہ شامل ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے مقدمات کی سماعت کے لیے تین بینچ تشکیل دیئے ہیں، بینچ ون میں چیف جسٹس امین الدین خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس ارشد حسین شامل ہیں جب کہ آئینی عدالت کا بینچ 2 جسٹس حسن رضوی اور جسٹس کے کے آغا پر مشتمل ہے، بینچ 3 میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان کو شامل کیا گیا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ حال ہی میں 27ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں بننے والی وفاقی آئینی عدالت کے مزید 2 ججز نے حلف اٹھا لیا جس کے ساتھ ہی عدالت کے مجموعی ججز کی تعداد 7 ہوگئی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہونے والی تقریب میں جسٹس روزی خان اور جسٹس ارشد حسین شاہ نے وفاقی آئینی عدالت کے جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے کانفرنس روم میں وفاقی آئینی عدالت کے مزید دو ججوں کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی، تقریب میں آئینی عدالت کے چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان نے دونوں ججوں سے حلف لیا۔
بتایا جا رہا کہ حلف برداری کی تقریب میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر، جسٹس ارباب محمد طاہر، جسٹس خادم حسین سومرو، جسٹس محمد اعظم خان، جسٹس محمد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس نے شرکت کی، اس موقع پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے عہدیداران اور وکلاء بھی موجود تھے جب کہ اس سے پہلے جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق، جسٹس علی باقر نجفی آئینی عدالت کے جج کے طور پر حلف اٹھا چکے ہیں، جسٹس کریم خان آغا نے بھی وفاقی آئینی عدالت کے جج حلف اٹھایا، چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے سب سے پہلے ایوانِ صدر میں اپنا حلف اٹھایا تھا، جس کے بعد انہوں نے آئینی عدالت کے دیگر ججز سے حلف لیا۔