بلوچستان میں طبی سہولتوں کی صورتحال سے متعلق ایک تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں صوبے بھر میں صرف 11 اسپتال ہیلتھ سروسز کے مقررہ معیار پر پورا اترتے ہیں، جبکہ باقی طبی ادارے بنیادی معیار پر بھی عمل درآمد میں ناکام پائے گئے ہیں۔
بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں صرف 2 سرکاری اور 9 نجی اسپتال ایسے ہیں جو ہیلتھ سروسز کے طے شدہ معیار پر پورا اترتے ہیں اور انہیں ایس او پیز کے مطابق طبی سہولتوں کی فراہمی پر باقاعدہ لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کے ساتھ مجموعی طور پر 1540 اسپتال، لیبارٹریز اور طبی مراکز رجسٹرڈ ہیں، تاہم ان میں سے 1529 اسپتال، لیبارٹریز اور کلینکس علاج کے بنیادی معیار پر پورا نہیں اترتے، جو صحت کے نظام کے لیے ایک سنگین مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صوبے کے متعدد سرکاری اسپتال بھی ہیلتھ کیئر کمیشن کے لائسنس کے بغیر کام کر رہے ہیں، جو قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
ہیلتھ کیئر کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ ناقص معیار، ایس او پیز کی عدم پابندی اور مریضوں کی حفاظت کے مؤثر انتظامات نہ ہونے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ ان مسائل کے حل کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔