برطانیہ کے معروف صحافی اور براڈکاسٹر سر مارک ٹلی 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ برطانوی نشریاتی ادارے سے وابستہ رہے اور بھارت سے متعلق اپنی طویل اور گہری رپورٹنگ کے باعث ’’وائس آف انڈیا‘‘ کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔
سر مارک ٹلی کو بھارت کے امور پر سب سے معتبر رپورٹر اور تجزیہ کاروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک بھارتی سیاست، سماج اور حساس قومی معاملات پر رپورٹنگ کی اور اپنی غیر جانبدار صحافت کے باعث بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی۔
1992 میں ایودھیا میں بابری مسجد پر ہندو انتہا پسندوں کے حملے کے دوران سر مارک ٹلی موقع پر موجود تھے اور اس واقعے کے عینی شاہد رہے۔ اس دوران انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں، جس کے باعث وہ کئی گھنٹوں تک ایک کمرے میں محصور رہے۔
سر مارک ٹلی نے بابری مسجد کی شہادت کو برطانوی دور کے بعد بھارت میں سیکولرازم کے لیے سب سے بڑا دھچکا قرار دیا تھا۔ ان کی رپورٹنگ میں بھارت کو درپیش سماجی اور سیاسی تضادات کو نمایاں انداز میں اجاگر کیا جاتا رہا۔
انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کے دوران بھارت میں قحط، فرقہ وارانہ فسادات، قتل و غارت گری، بھوپال گیس سانحہ اور سکھوں کے گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوج کے حملے جیسے اہم اور حساس واقعات کی تفصیلی رپورٹنگ کی، جو آج بھی صحافت میں ایک حوالہ سمجھی جاتی ہے۔