وزیرِ اعظم شہباز شریف نے صنعتوں کے لیے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کر دیا ہے، جسے صنعتی شعبے کے لیے ایک اہم ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے اسلام آباد میں ملک کے نمایاں برآمد کنندگان اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔
وزیرِ اعظم نے اس موقع پر صنعتوں کے لیے ویلنگ چارجز میں 9 روپے کمی کا اعلان بھی کیا اور بتایا کہ ایکسپورٹرز کے لیے ٹیکس کی شرح ساڑھے 7 فیصد سے کم کر کے ساڑھے 4 فیصد پر لائی جا رہی ہے، تاکہ برآمدی شعبے کو مزید سہولت فراہم کی جا سکے۔
تقریب کے دوران قومی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرنے والے برآمد کنندگان میں ایوارڈز بھی تقسیم کیے گئے۔ وزیرِ اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایکسپورٹرز کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، کیونکہ عظیم کاروباری شخصیات نے شبانہ روز محنت کر کے ملک کا نام روشن کیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ برآمد کنندگان نے نہایت مشکل حالات میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 2025ء کے دوران ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کی غیر متزلزل محنت کے نتیجے میں ملک میں اربوں ڈالرز کا زرمبادلہ آیا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ماضی میں بعض عناصر کی جانب سے یہ بیانات دیے گئے کہ پاکستان تکنیکی طور پر ڈیفالٹ کر چکا ہے اور ملک کے دیوالیہ ہونے کی باتیں عام کی جاتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت سنبھالی گئی تو ملک کی معاشی صورتِ حال انتہائی ابتر تھی اور پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ایک بڑا چیلنج تھا۔
انہوں نے کہا کہ عام آدمی نے اس دوران شدید مشکلات کا سامنا کیا، تاہم اب مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ وزیرِ اعظم کے مطابق بہتر معاشی پالیسیوں کے باعث ملکی زرِ مبادلہ دگنا ہو چکا ہے اور حکومت کی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ دوست ممالک نے مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا، جبکہ معاشی استحکام کے لیے فیلڈ مارشل کے ہمراہ مختلف ممالک کی قیادت سے ملاقاتیں کی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل فیصلوں کے اب شاندار نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ حکومت کا کام بزنس کرنا نہیں بلکہ بزنس پرائیویٹ سیکٹر نے کرنا ہے، جبکہ حکومت سہولت کاری کا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم کے تمام وزراء انتھک محنت سے ملکی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں اور سیاسی و عسکری تعاون سے ترقی کے تمام راستے کھل رہے ہیں۔