وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ ملک میں بجلی کے 200 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد 90 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 10 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جو توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں خوشحال اور امیر طبقے کے افراد سولر سسٹم نصب کر کے خود کو 200 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے صارفین کی فہرست میں شامل کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں کم یونٹ استعمال کرنے والوں کی مجموعی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اتنے بڑے طبقے کو بجلی کی قیمت میں 70 فیصد رعایت دینا ریاست کے لیے مالی طور پر ممکن نہیں رہا، کیونکہ اس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور نظام کو برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی نے بتایا کہ حالیہ صنعتی ریلیف پیکج میں وزیر اعظم کی جانب سے کراس سبسڈی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ بجلی کے نرخوں میں توازن پیدا کیا جا سکے اور صنعتوں کو پائیدار بنیادوں پر سہولت دی جا سکے۔
اویس لغاری کا کہنا تھا کہ اب پاکستان میں صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ خطے کے دیگر ممالک کے قریب آ چکے ہیں، جبکہ یہ تاثر درست نہیں کہ بنگلادیش میں بجلی 6 سے 7 سینٹ فی یونٹ میں فراہم کی جا رہی ہے، کیونکہ وہاں بھی لاگت اس سے زیادہ ہے۔