سابق جج سپریم کورٹ جسٹس (ر) منصور علی شاہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز سے وابستہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ جامعہ کے شعبۂ قانون میں بطور پروفیسر اپنی خدمات انجام دیں گے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق جسٹس (ر) منصور علی شاہ لمز میں تدریسی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور قانون، آئین اور عدالتی امور سے متعلق اپنے وسیع تجربے کی روشنی میں اساتذہ اور طلبہ کو لیکچرز دیں گے، جس سے طلبہ کو عملی اور نظری دونوں حوالوں سے رہنمائی حاصل ہوگی۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جسٹس (ر) منصور علی شاہ کی شمولیت سے شعبۂ قانون میں تدریسی معیار مزید بہتر ہوگا اور طلبہ کو آئینی و قانونی معاملات کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع ملے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس 13 نومبر کو سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے 13 صفحات پر مشتمل استعفیٰ صدرِ مملکت کو ارسال کیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے عدالتی فرائض دیانت داری، ایمانداری اور ادارے کے وقار کو مقدم رکھتے ہوئے انجام دیے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے میں کہا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئینِ پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی یکجہتی متاثر ہوئی اور عدلیہ کو حکومتی اثر و رسوخ کے تحت لایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ترمیم نے آئینی جمہوریت کی روح کو نقصان پہنچایا، انصاف کو عام آدمی سے دور کر دیا اور عدالتی آزادی کو شدید دھچکا پہنچایا۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ ایسے حالات میں عدالتی حلف کی پاسداری ممکن نہیں رہتی، کیونکہ آئینی نظام میں پیدا ہونے والی یہ بگاڑ ناقابلِ برداشت ہے، تاہم وقت کے ساتھ اس صورتحال کو درست کیا جائے گا۔