صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ استحصال کا خاتمہ اور معاشرے میں مساوات کا قیام ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے، اور حکومت اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
عالمی یومِ سماجی انصاف کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان سماجی انصاف کی واضح ضمانت فراہم کرتا ہے، اور کمزور اور محروم طبقات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ انہیں باعزت زندگی کے مساوی مواقع میسر آ سکیں۔
صدرِ مملکت نے بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ بڑھ کر 716 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، اور اس پروگرام کے تحت ایک کروڑ گھرانوں کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ معاشی مشکلات کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صحت، تعلیم اور خوراک تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، جبکہ بزرگوں، خواتین، خصوصی افراد اور نوجوانوں کے لیے خصوصی فلاحی اقدامات پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ معاشرے کے تمام طبقات کو مساوی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومتوں کے فلاحی پروگرام بھی وفاقی کوششوں کا حصہ ہیں اور مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ مہنگائی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل ملک کو درپیش بڑے چیلنجز ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے وسائل کے مؤثر استعمال اور جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔
صدرِ مملکت نے مزید کہا کہ سماجی انصاف پائیدار ترقی کا بنیادی ستون ہے، اور پاکستان اقوامِ متحدہ کے موضوع ’شمولیت کو بااختیار بنانا‘ کی مکمل حمایت کرتا ہے تاکہ معاشرے کے تمام افراد کو ترقی کے عمل میں شامل کیا جا سکے۔
انہوں نے کشمیر اور فلسطین میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انصاف منتخب نہیں ہو سکتا، اور عالمی برادری کو اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ منصفانہ اور مساوی معاشرہ ہی امن اور خوش حالی کی حقیقی بنیاد فراہم کرتا ہے۔