امریکی خلائی ادارے ناسا کے ایک سینئر سائنسدان نے کہا ہے کہ کائنات کی وسعت کو مدنظر رکھا جائے تو خلائی مخلوق کے وجود کے امکانات خاصے مضبوط ہیں، تاہم اب تک ایسی کوئی مستند شہادت سامنے نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو کہ کسی خلائی مخلوق نے زمین کا دورہ کیا ہو۔
ناسا سے 1968ء سے وابستہ ڈاکٹر جینٹری لی نے ایک سائنسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج تک کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں جو یہ ظاہر کرے کہ کسی خلائی مخلوق یا اس کی تیار کردہ مشین نے زمین پر قدم رکھا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ جو افراد اس نوعیت کے دعوؤں پر یقین رکھتے ہیں، انہیں گمراہ کیا گیا ہے اور ایسے تصورات سائنسی بنیادوں سے محروم ہیں۔
ڈاکٹر لی نے مزید کہا کہ کائنات کی بے پناہ وسعت اور اربوں کہکشاؤں کی موجودگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ کہیں نہ کہیں زندگی کا وجود ممکن ہے۔ ان کے مطابق سائنس دان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مستقبل میں کسی نہ کسی شکل میں کائنات میں زندگی کے آثار ضرور دریافت کیے جائیں گے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سابق امریکی صدر بارک اوباما نے ایک موقع پر کہا تھا کہ خلائی مخلوق حقیقی ہے، تاہم بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ اپنے دورِ صدارت میں انہیں زمین پر کسی خلائی مخلوق کی موجودگی کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا تھا۔
دوسری جانب موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ خلائی مخلوق اور نامعلوم پرواز کرنے والی اشیاء سے متعلق فائلوں کی تفصیلات عام کرنے کی تیاری کی جائے، تاکہ عوام کو دستیاب معلومات سے آگاہ کیا جا سکے۔
ماہرینِ فلکیات کے مطابق وہ سیارے جہاں زمین جیسی فضا اور ماحول پایا جاتا ہو، خلائی حیات کی تلاش کیلئے سب سے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں زمین جیسے حجم کے حامل ایک سیارے کو ممکنہ طور پر زندگی کیلئے امیدوار قرار دیا جا رہا ہے، جو زمین سے تقریباً 40 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور جس پر تحقیق جاری ہے۔