عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں منگل کے روز ایک بار پھر کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ نئے امن مذاکرات کی امید کو قرار دیا جا رہا ہے، جس سے توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات کسی حد تک کم ہو گئے ہیں اور مارکیٹ میں قدرے استحکام آیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً ایک فیصد کمی کے بعد 98.40 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 1.7 فیصد کمی کے ساتھ 97.40 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جو حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایک نمایاں تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔
یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا کہ تہران نے ممکنہ معاہدے کے لیے واشنگٹن سے رابطہ کیا ہے، اور ان کے مطابق “دوسری جانب سے ہمیں کال موصول ہوئی ہے، وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں”، جس سے مذاکرات کے امکانات کو تقویت ملی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے اعلان پر تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں، تاہم اب مذاکرات کی نئی امید نے مارکیٹ کے رجحان کو تبدیل کر دیا ہے۔
دوسری جانب ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے یورینیم افزودگی پانچ سال کے لیے معطل کرنے کی پیشکش کی، تاہم امریکا نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے 20 سال کی مدت کا مطالبہ کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔