نواز شریف علاج کے لئے کل براستہ دوحہ ایئرایمبولینس سے لندن جائیں گے، شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی ان کے ہمراہ ہونگے۔
ذرائع کے مطابق لندن ایئرپورٹ پر استقبال کیلئے خاندان کے افراد اور کارکنوں کو نہ پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ خاندانی ذرائع نے سیکیورٹی نقطہ نظر سے اسپتال کا نام بتانے سے بھی گریز کیا ہے۔
ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب کے مطابق سابق وزیراعظم کے ہائی بلڈ شوگر، ہارٹ اور دیگر طبی خطرات کو کم سے کم سطح پر لانے کے لئے بھی ادویات دی جا رہی ہیں،ڈاکٹرز ایسی محفوظ طبی حکمت عملی پر کاربند ہیں جس سے محمد نواز شریف بحفاظت سفر کر سکیں۔