کے الیکٹرک کے بورڈ میں حکومتی نامزد ڈائریکٹر ایک مرتبہ پھر کمپنی کی قیادت میں تبدیلی لانے میں ناکام رہے، کیونکہ دیگر ڈائریکٹرز نے اس کوشش کو روک دیا اور دس دن میں ہونے والا دوسرا بورڈ اجلاس بھی بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق جمعرات کو کراچی میں کمپنی کے ہیڈ آفس میں ہونے والا تازہ اجلاس اسی ایجنڈے کے ساتھ طلب کیا گیا تھا جو ماہِ نومبر کے آغاز میں پیش کیا گیا تھا، یعنی چیف ایگزیکٹو مونس علوی کو عہدے سے ہٹانا۔
تاہم اجلاس میں حکومتی اور نجی شعبے کے ڈائریکٹرز کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے، جس کے باعث یہ کوشش ایک مرتبہ پھر ناکام ہوگئی۔ بورڈ کے کئی ارکان اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے، جس کے نتیجے میں قرارداد کو آگے نہیں بڑھایا جا سکا۔
کمپنی ذرائع نے بتایا کہ پانچ نومبر کے گزشتہ اجلاس کے برعکس جمعرات کا اجلاس تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے شروع ہوا اور کورم بھی مکمل تھا۔ دس میں سے نو ڈائریکٹر موجود تھے، البتہ وفاقی سیکریٹری خزانہ شرکت نہ کر سکے۔ اجلاس کی کارروائی ضابطے کے مطابق ریکارڈ بھی کی گئی۔
تاہم اجلاس صرف چھ منٹ جاری رہا۔ چونکہ ایجنڈا چیف ایگزیکٹو کی برطرفی سے متعلق تھا، لہٰذا مونس علوی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
اجلاس کے آغاز پر ہی ڈائریکٹر ادیب احمد، مبشر ایچ شیخ، محمد کامران کمال، سعد امان اللہ خان اور شان اے عشری نے معذرت کرکے اجلاس سے رخصت اختیار کرلی۔
یوں اجلاس میں حکومت کے نامزد کردہ صرف دو ارکان، سیکریٹری پاور اور اجلاس طلب کرنے والے ڈائریکٹر جاوید قریشی موجود رہے، جبکہ بورڈ چیئرمین مارک جیرارڈ اسکیلٹن بھی عمارت میں موجود رہے۔
واک آؤٹ کے بعد اجلاس کو آگے بڑھانا ممکن نہ رہا اور سی ای او کو ہٹانے کی کوشش مسلسل دوسری مرتبہ بھی ناکام ثابت ہوئی۔
بعد ازاں کے الیکٹرک نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ’مالی نتائج کے علاوہ بورڈ میٹنگ‘ کے عنوان سے اپنی رپورٹ بھجوائی۔
کمپنی کے بیان میں کہا گیا کہ ’سات نومبر کی اطلاع کے تسلسل میں آگاہ کیا جاتا ہے کہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے جمعرات 13 نومبر 2025 کو منعقدہ اجلاس میں مالی نتائج کے علاوہ دیگر اہم امور پر غور کیا، لہٰذا اس بارے میں ایکسچینج کے ٹی آر ای سرٹیفکیٹ ہولڈرز کو مطلع کیا جائے‘۔