بنوں میں ایک افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب میران شاہ روڈ پر اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان کی گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے مسلح افراد نے شدید فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمشنر، ان کے ساتھ موجود 2 پولیس اہلکار اور ایک عام شہری موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ واقعہ اچانک اور نہایت تیز رفتاری کے ساتھ پیش آیا، جس نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
پولیس کے مطابق حملہ آور نہ صرف فائرنگ کرنے کے بعد موقع سے فرار ہوئے بلکہ انہوں نے زخمی اہلکاروں سے اسلحہ بھی چھین لیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حملہ انتہائی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔ واقعے کے فوراً بعد حملہ آوروں نے سرکاری گاڑی کو آگ لگا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا، جب کہ اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں اور شواہد اکٹھے کرتے ہوئے شہدا اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔
فائرنگ کا یہ واقعہ میرانشاہ روڈ پر فلور ملز کے قریب پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے سرکاری گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ گزر رہی تھی۔ حملے کی نوعیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان پہلے سے گھات لگائے بیٹھے تھے اور گاڑی کے قریب آتے ہی اندھا دھند فائرنگ کی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ردِعمل
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس اہلکاروں کی قربانی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ نہایت دل خراش ہے اور دشمن عناصر اس طرح کے بزدلانہ حملوں سے سیکیورٹی فورسز اور ریاستی اداروں کے حوصلے متزلزل نہیں کر سکتے۔
وزیراعلیٰ نے آئی جی خیبر پختونخوا سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ حملے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے زخمیوں کو فوری اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ مزید مضبوط عزم کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔